اتوار 4 اکتوبر 2026 - 21:07
امام زمانہ (عجل) ہمارے اعمال پر ناظر ہیں، حجت الاسلام نقی مہدی زیدی

حوزه/ مدرسہ جعفریہ تاراگڑھ اجمیر ہندوستان میں امام جمعہ مولانا سید نقی مہدی زیدی کے توسط سے ہفتہ وار درس بعنوانِ " آشنائی با مہدویت" کا سلسلہ جاری ہے۔

حوزه نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ جعفریہ تاراگڑھ اجمیر ہندوستان میں امام جمعہ مولانا سید نقی مہدی زیدی کے توسط سے ہفتہ وار درس بعنوانِ" آشنائی با مہدویت" کا سلسلہ جاری ہے۔

ہفتہ وار درس مہدویت سے گفتگو کرتے ہوئے حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ ان مقامات اور نشستوں میں شرکت کرنا جو امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خوشنودی کا سبب ہو، یہ بھی امام علیہ السلام سے قریب ہونے کا ایک راستہ اور ذریعہ ہے، لہٰذا شروع سے ہی ہمیں یہ دھیان رکھنا ہوگا کہ کون سی مجلس اور نشست امام زمانہ علیہ السلام کی خوشنودی اور رضایت کا سبب ہے۔ یہ بات صد فی صد درست اور عقل کے مطابق ہے کہ امام عصر علیہ السلام ان نشستوں اور مجلسوں کو پسند فرماتے ہیں جس میں محمد و آل محمد اور ائمہ معصومین علیہم السلام یا خود امام زمانہ علیہ السلام کا تذکرہ ہو۔

امام زمانہ (عجل) ہمارے اعمال پر ناظر ہیں، حجت الاسلام نقی مہدی زیدی

انہوں نے مزید کہا کہ وہ فرشتہ جو ہمارے اعمال لکھتا ہے، وہ ہر دوشنبہ اور پنج شنبہ کو ہمارے اعمال امام علیہ السلام کی بارگاہ میں پیش کرتا ہے اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اس پر دستخط کرتے ہیں، امام علیہ السلام دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے آگاہ ہیں، فطری بات ہے کہ وہ نشست و برخاست، واقعات و حوادث، جلسہ و جلوس جس میں اہل بیت علیہم السلام کے فضائل و مناقب بیان ہوں امام ان پر نظر عنایت کرتے ہیں اور اس کے برعکس ایسی مجلسوں اور نشستوں کا انعقاد جس میں امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے دشمن موجود ہوں اور امام علیہ السلام کی مخالفت کرتے ہوں یا امام کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کریں تو امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف یقیناً ناراض ہوں گے۔

حجۃالاسلام مولانا نقی مہدی زیدی نے مزید کہا کہ ایک حدیث جو مکِیال المکارم میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ذکر ہوئی ہے جس میں آپ نے فضیل سے فرمایا: کیا تم بیٹھتے ہو اور ہماری حدیثوں کو بیان کرتے ہو؟ فضیل نے جواب دیا جی ہاں آپ پر میری جان قربان ہو۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:"بیشک میں اس مجلس و نشست کو دوست رکھتا ہوں، پس ہمارے امر کو زندہ کرو، اے فضیل! اللہ رحم کرے اس شخص پر جو ہمارے امر کو زندہ کرتا ہے۔

اسی طرح امام علی رضا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:"جو شخص ایسی مجلس اور نشست میں بیٹھے جس میں ہماری باتوں (امر) کو زندہ کیا جاتا ہے اس دن جب دل مردہ ہو جائیں گے تو اس کا دل مردہ نہ ہوگا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ ائمہ معصومین علیہم السلام ان کاموں میں شرکت کرنے والون کے لئے دعائیں کرتے ہیں، لیکن کبھی غور کیا کہ ان کے اوامر (باتیں) کیا ہیں جسے زندہ کرنا اتنا اہم ہے اور اس حد تک امام کی توجہ کا سبب ہے؟ امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:"رحِمَ اللَّهُ عَبْدًا أَحْيَا أَمْرَنَا، فَقُلْتُ كَيْفَ يُحْيَى أَمْرُكُمْ؟ قَالَ: يَتَعَلَّمُ عُلُومَنَا وَيُعْلِمُهَا النَّاسَ"، اللہ رحمت کرے اس بندہ پر جو ہمارے امر (باتوں) کو زندہ کرے۔ میں نے سوال کیا کیسے آپ کی باتیں زندہ ہوں گی؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: ہمارے علوم کو سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔

امام زمانہ (عجل) ہمارے اعمال پر ناظر ہیں، حجت الاسلام نقی مہدی زیدی

حجۃالاسلام مولانا نقی مہدی زیدی نے ان جگہوں کے نام بھی بتائے جہاں امام زمانہ علیہ السلام کے امر کو زندہ کیا جا سکتا ہے جیسے امام حسین علیہ السلام اور اہل بیت علیہم السلام کے غم و عزاداری میں ہونے والی مجلسوں پر یقیناً امام عصر علیہ السلام کی نظر ہوتی ہے، اہل بیت علیہم السلام کے سلسلے میں ہونے والے جشن جیسے عید غدیر، پندرہ شعبان، ۱۳ رجب امیر المؤمنین حضرت علیؑ کے روز میلاد، اسی طرح ہماری یہ کلاس بھی کہ جہاں اس وقت ہم بیٹھے ہیں کیونکہ ہم اس کلاس میں امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور ائمہ معصومین علیہم السلام کو یاد کرتے ہیں اور ان کی حدیثوں کو پڑھتے ہیں ان کا تذکرہ کرتے ہیں، اس لئے یہ بات بھی ہمارے ذہن میں رہے کہ اس طرح کی کلاس پر امام زمانہ کی نظر ہوتی ہے، پس اس میں امام کی حرمت اور عزت کا خیال رکھیں، وضو کر کے بیٹھیں، وہ مجلسیں جن میں امام عصر علیہ السلام اور اہل بیت علیہم السلام کے امور کو زندہ کیا جاتا ہے اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:"بیشک خدا اہل ذکر کی مجلسوں میں بیٹھنے والوں کی مغفرت کرتا ہے اور جن چیزوں سے وہ ڈرتے ہیں ان سے محفوظ رکھتا ہے، پس فرشتہ کہتا ہے: فلاں شخص ان لوگوں کے درمیان ہے اور اس نے تجھ کو یاد نہیں کیا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: میں نے اس کو ان لوگوں کے درمیان بیٹھنے کے سبب معاف کر دیا ہے کیونکہ ذکر کرنے والے ایسے ہیں کہ ان کے درمیان بیٹھنے والا بدبخت نہیں ہوگا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس لئے ائمہ علیہم السلام کو صحیح طریقہ سے پہچاننا، اور ان کو انکی واقعی معرفت کی نگاہ سے دیکھنا اور ان کے رتبہ اور مقام کو جو سمجھنے اور درک کرنے کے قابل ہے سمجھنا اور درک کرنا اور اسکے بعد علم دین کو ائمہ معصومین علیہم السلام سے لینا ہی ان کے امر کو زندہ کرنا ہے۔ اسی طرح ہر منزلت، فضائل ومناقب کا ذکر، انکی حدیثوں کا بیان چاہے مختصر ہی کیوں نہ ہو ایک قسم سے امر کا زندہ کرنا ہے اور امام زمانہ علیہ السلام سے قریب ہونے کی ایک راہ ہے، اب یہ کام اس مجلس و نشست میں جتنا زیادہ ہوگا اس کا نتیجہ اور فائدہ بھی ہمیں اتنا ہی حاصل ہوگا۔

انہوں نے کلاس کے آخر میں ایسے عملی کام بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمام شرکاء سوچیں، غور کریں کہ وہ مجلسیں و نشستیں جو امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی مرضی کے مطابق ہوں اس میں کیا خصوصیت ہونا چاہیے، اور کون سی مجلسوں اور نشستوں میں ائمہ معصومین علیہم السلام اور امام عصر علیہ السلام کے امر کو زندہ کرنا ممکن ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha